Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
91 - 96
قدرت رکھتا)ہو۔  (ایضاً ص۶۳۷)(۲)ماں  باپ، دادا دادی وغیرہ اُصُول کے مَحض بُلانے سے نماز قَطع کرنا (یعنی توڑنا) جائز نہیں ، البتّہ اگر ان کا پُکارنا بھی کسی بڑی مصیبت کے لیے ہو، جیسے اوپر مذکور ہوا تو توڑ دے(اور ان کی مددکو پہنچے)، یہ حُکم فرض(رکعتوں )کا ہے اور اگر نَفل نماز ہے اور ان کو معلوم ہے کہ نماز پڑھتا ہے تو ان کے معمولی پُکارنے سے نماز نہ توڑے اور اس کا (نفلی)نَماز پڑھنا انھیں  معلوم نہ ہو اور پُکارا تو توڑ دے اور جواب دے، اگرچِہ معمولی طور سے بلائیں۔  (ایضاً ص۶۳۸)(۳)کوئی سو رہا ہے یا نماز پڑھنا بھول گیا تو جسے معلوم ہو اس پر واجب ہے کہ(اُس کی اِس طرح مددکرے کہ) سوتے کو جگا دے اور بُھولے ہوئے کو یاد دلادے۔  (ایضاًص۷۰۱)(۴)بھول کر کھایا یا پیا یا جِماع کیا روزہ فاسِد نہ ہواخواہ وہ روزہ فرض ہو یا نَفل ۔اورروزہ کی نیّت سے پہلے یہ چیزیں  پائی گئیں  یا بعد میں ، مگر جب یاد دلانے پر بھی یاد نہ آیا کہ روزہ دار ہے تو اب فاسد ہو جائے گا، بشرطیکہ یاد دلانے کے بعد یہ افعال واقِع ہوئے ہوں  مگراس صورت میں  کَفّارہ لازم نہیں۔(۵) کسی روزہ دارکو ان افعال میں  دیکھے تو یاد دلانا واجب ہے، (اُس کی اِس طرح مدد نہ کی یعنی)یاد نہ دلایا تو گنہگار ہوا، مگر جب کہ وہ روزہ دار بہت کمزور ہو کہ یاد دلائے گا تو وہ کھانا چھوڑ دے گا اور کمزوری اتنی بڑھ جائے گی کہ روزہ رکھنا دشوار ہوگا اور کھا لے گا تو روزہ بھی اچھی طرح پورا کر لے گا اور دیگر عبادتیں  بھی بخوبی ادا کر لے گا تو اس صورت میں  یاد نہ دلانا بہتر ہے۔ (ایضاًص۹۸۱)(۶)جو
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ 
۱؎  مثلاً ماں، نانی،پَرنانی اِسی طرح اوپر تک نیز باپ،دادا،پَردادااِسی طرح اوپر تک یہ سب ’’اُصول‘‘ کہلاتے ہیں۔