Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
90 - 96
ضِمن میں وہ فقہی جُزئیات پیش کئے جاتے ہیں  جن میں  مدد(تعاوُن)مانگنے اور مددکرنے کے وُجوب  (یعنی واجب ہونے)کاتذکرہ ہے۔
وہ مقامات جہاں  مدد مانگنا واجِب ہے
(۱) اگر(لباس پاس نہیں  اور ایسی صورت ہے کہ ننگے نماز پڑھے گا اور)دوسرے کے پاس کپڑا ہے اور غالِب گمان ہے کہ مانگنے سے دے دے گا، تو(بصورتِ لباس مدد) مانگنا واجب ہے۔(بہار شریعت ج ۱ ص۴۸۵)(۲) اگر اپنے ساتھی کے پاس پانی ہے اور یہ گمان ہے کہ (بصورتِ پانی مدد)مانگنے سے دیدے گا تو مانگنے سے پہلیتَیَمُّمجائز نہیں  پھر اگر نہیں  مانگا اورتَیَمُّم کرکے نَماز پڑھ لی اور بعد نَماز مانگا اور اس نے دیدیا یا بے مانگے اس نے خود دیدیا تو وُضو کرکے نماز کا اِعادہ(یعنی دوبارہ پڑھنا) لازِم ہے اور اگر مانگا اور نہ دیا تو نَماز ہو گئی اور اگر بعد کو بھی نہ مانگا جس سے دینے نہ دینے کا حال کُھلتا اور نہ اُس نے خود دیا تو نماز ہوگئی اور اگر دینے کا غالِب گمان نہیں  اورتَیَمُّم کر کے نَماز پڑھ لی جب بھی یِہی صورَتیں  ہیں  کہ بعد کو پانی دے دیا تو وُضو کرکے نَماز کا اعادہ کرے ورنہ ہوگئی۔		 (ایضاً ص۳۴۸)
وہ مقامات جہاں  مدد کرنا واجب ہے
(۱)کوئی مصیبت زدہ فریاد کر رہا ہو، اُسی نَمازی کو پُکار رہا ہو یا مُطلَقاً کسی شخص کو پُکارتا ہو یا کوئی ڈوب رہا ہو یا آگ سے جل جائے گا یا اندھا راہ گیر کوئیں  میں  گرا چاہتا ہو، ان سب صورتوں  میں (نَماز) توڑ دینا واجب ہے، جب کہ یہ(نمازی) اس کے بچانے پر قادر (یعنی