Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
89 - 96
فَہُمْ یَحْتَاجُوْنَ اِلَیْہِمْ فِی الْجَنَّۃِ کَمَا یَحْتَاجُوْنَ اِلَیْہِمْ فِی الدُّنْیَا۔تو جیسے لوگ دنیا میں علماءِ کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے مُحتاج تھے جنّت میں  بھی اُن کے مُحتاج ہوں  گے۔‘‘
(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطیص ۱۳۵ حدیث ۲۲۳۵)
	انسان عام طورپرزندَگی کے ہر موڑ پر دوسرے کا محتاج رہتا ہے ،کبھی ماں  باپ کا ، کبھی دوست واَحباب کا، کبھی پولیس والوں  کا تو کبھی راہ چلتے عام آدَمی کا۔ ایسی صورت میں  وہ ’’ محتاط‘‘ رہنے میں  کامیاب بھی کس طرح ہو سکتا ہے ! ہاں  جو واقِعی وسوسوں  کاشکار نہیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے دوسروں  کو سچّے دل سے مدد گار تسلیم کرتاہے باوُجُود اِس کے وہ صِرْف اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی سے مدد مانگتا ہے تو اِس میں  کوئی مُضایَقہ نہیں۔
تو ہے نائبِ ربِّ اکبر پیارے ہر دَم تیرے در پر
اہل ِحاجت کا ہے میلہ صلّی اللہ علیک وسلم(سامان بخشش)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کیا غیرُ اللہ سے مدد مانگنا کبھی واجِب بھی ہوتا ہے؟
سُوال(15): کیاکوئی ایسی بھی صورت ہے جس میں  غیرُ اللہ سے مدد مانگنا واجِب ہو جاتاہے؟
جواب: جی ہاں ،بعض صورَتیں  ایسی ہیں  جہاں  غیرُ اللہ سے مَدَد مانگنا واجِب ہو تا ہے اور بعض حالات میں  بصورتِ قُدرت بندے پر بھی واجِب ہوجاتا ہے کہ وہ مددکرے۔اِس