Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
88 - 96
کے پاس لوٹ کر آیا۔ اُنہوں  نے کہا: پھر اللہ تبارَکَ وَ تعالیٰ کے پاس لوٹ جائیے ۔ میں  نے جواب دیا: مجھے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے شَرْم محسوس ہونے لگی ہے۔( اِبنِ ماجہ ج۲ ص۱۶۶ حدیث ۱۳۹۹)دیکھا آپ نے!حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے اپنی وفاتِ ظاہِری کے ڈھائی ہزار برس بعد اُمّت ِمصطَفٰے کی یہ مدد فرمائی کہ شبِ مِعراج میں پچاس نَمازوں  کے بجائے پانچ کرا دیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھاکہ نَمازیں  پانچ رہیں  گی مگر پچاس مقرَّر فرماکر پھر دو پیاروں  کے ذَریعے سے پانچ مُقَرَّر فرمائیں۔یہاں  دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ شیطان کے وَسوَسوں  میں  آ کر وَفات یا فتگان کی مدد اور تعاوُن کا انکار کر دیتے ہیں  وہ بھی 50نہیں  پانچ نَمازیں  ہی پڑھتے ہیں  حالانکہ پانچ نمازوں  کے تقرُّر میں  یقینی طور پر غیرُاللہ کی مدد شامل ہے!
جنَّت میں  بھی غیرُاللہ کی مدد کی حاجت
	جنَّت میں  بھی غیرِخدا کی مدد کی حاجت ہو گی ، جی ہاں! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے:’’جنّتی جنّت میں علماءِ کرام (رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام)کے مُحتاج ہوں  گے ،اِس لئے کہ وہ ہرجُمُعہ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیدار سے مُشَرَّف ہوں  گے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا:تَمَنَّوْاعَلَیَّ مَا شِئْتُمْیعنی مجھ سے مانگو جو چاہو!وہ جَنَّتی،علماءِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی طرف مُتَوَجِّہ ہوں  گے کہ اپنے ربِّ کریم سے کیا مانگیں ؟وہ فرمائیں  گے :’’یہ مانگو وہ مانگو۔‘‘