دھکّے دینے کی حاجت پیش آئی! کیا کریں گے ؟ لا مُحالہ راہ گیروں سے ہی عرض کرنا ہوگا کہ برائے مہربانی ذرا دھکّا لگا دیجئے!ہو سکتا ہے بعض رَحْم کھا کر دھکّے لگائیں اور گاڑی چل پڑے ! دیکھا آپ نے !آپ کو حاجت پیش آئی ، آپ نے غیرِ خدا سے حاجت روائی چاہی، انہوں نے مدد کر دی اور آپ کی مُشکلِکشائی ہوگئی! اگر آپ کہیں کہ یہ تو چلتے پھرتے زندہ انسانوں نے مدد کی! تو لیجئے بعدِ وفات مدد کی ایسی دلیل عرض کرتا ہوں کہ اِس ’’مدد‘‘ کا ہر مسلمان اثر لئے ہوئے ہے چُنانچِہ
50کی جگہ پانچ نَمازیں کیسے ہوئیں ؟
حضرتِ سیِّدُنااَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: شَہَنْشاہِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری اُمّت پر پچاس نَمازیں فَرْض فرمائی تھیں۔ جب میں مُوسیٰ(عَلَیْہِ الصّٰلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے پاس لَوٹ کر آیا تو مُوسیٰ(عَلَیْہِ الصّٰلٰوۃُ وَالسَّلَام)نے دریافت کیا کہ اللہ تبارَکَ وَ تعالیٰ نے آپ(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کی اُمَّت پر کیا فَرض کیا ہے؟ میں نے انہیں بتایا تو کہنے لگے: اپنے ربّ تعالیٰ کے پاس لَوٹ کر جائیے،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کی اُمَّت اِتنی طاقت نہیں رکھتی۔ میں لوٹ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس گیا، اُن سے کچھ حصّہ کم کردیا گیا۔ جب پھر مُوسٰی(عَلَیْہِ الصّٰلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے پاس لوٹ کر آیا تو اُنہوں نے مجھے پھر لَوٹا دیا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا: اچّھا پانچ ہیں اورپچاس کی قائم مقام ہیں کیونکہ ہمارے قول میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ مُوسیٰ(عَلَیْہِ الصّٰلٰوۃُ وَالسَّلَام)