اِس وَسوَسے کی پَیروی میں بَہُت ساری قُراٰنی آیتوں اورمبارَک حدیثوں کی مخالَفَت پائی جا رہی ہے،اللہ ورسول عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دوسروں سے مدد مانگنے کی اجازت عنایت فرما رہے ہیں اوریہ ہے کہ اپنی ’’وسوَسہ مار کہ اِحتیاط‘‘ پراَڑا ہوا ہے! ایسے شخص کو قراٰنِ کریم کی اِ ن 6آیاتِ مبارَکہ پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے جن میں غیرِ خدا سے مدد لینے کا صاف صاف الفاظ میں تذکرہ موجود ہے۔ چُنانچِہ
{۱}نیکی میں ایک دوسرے کی مددکرو:
وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ۪ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ۪ (پ۶،المائدہ :۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادَتی پر باہَم مدد نہ دو۔
{۲} صَبْر اور نَماز سے مدد چاہو: وَاسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِؕترجَمۂ کنز الایمان : اور صَبر اورنَماز سے مدد چاہو ۔ (پ۱،البقرۃ:۴۵){۳}سکندر ذُوالقَرنَین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مدد مانگی: جب حضرتِ سیِّدُناسکندر ذُوالقَرنَینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے جانبِ مَشرِق سفر فرمایا تو ایک قوم کی شکایت پر یاجُوج ،ماجُوج اور اس قوم کے درمیان دیوار قائم کرتے ہوئے اس قوم کے اَفراد سے ارشاد فرمایا : فَاَعِیۡنُوۡنِیۡ بِقُوَّۃٍ ترجمۂ کنز الایمان:میری مدد طاقت سے کرو۔ (پ۱۶،الکھف:۹۵) {۴} دینِ خدا کی مدد کرو: اِنۡ تَنۡصُرُوا اللہَ یَنۡصُرْکُمْ ترجَمۂ کنز الایمان:اگر تم دینِ خدا کی مدد کرو گےاللہتمہاری مدد کرے گا۔ (پ۲۶،محمد:۷) {۵}