Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
84 - 96
حضرت عَلَّامہعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں :لِاَنَّ اُمُوْرَ الْاٰخِرَۃِ مَبْنِیَۃٌ عَلٰی خَرْقِ الْعَادَۃِ ۔ یعنی کیونکہ آخرت کے مُعاملات خلافِ عادت پر مبنی ہیں  ۔
(مِرقاۃ ج۱ ص۳۵۴ تَحتَ الحدیث۱۳۱)
راستہ پُرخار، منزِل دُور، بَن سُنسان ہے
المدد اے رہنما! یاغوثِ اعظم دَسْتْ گِیر(وسائل بخشش ص۵۲۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جب اللہ مدد کر سکتا ہے تو دوسرے سے مدد کیوں  مانگیں ؟
سُوال(13):اُس کے بارے میں  آپ کیا کہیں  گے جویوں  ذہن بنا کر صِرْفاللہ عَزَّوَجَلَّ ہی سے مدد مانگا کرے کہ جباللہ عَزَّوَجَلَّ مدد پر قادِر ہے تو پھر احتیاط اِسی میں  ہے کہ صِرْف اُسی سے مدد مانگی جائے ۔
جواب:بے شکاللہ عَزَّوَجَلَّ مدد پر قادِر ہے اور کارسازِ حقیقی بھی وُہی ہے، اگر کوئی صرْفاللہ عَزَّوَجَلَّ ہی سے مددمانگاکرے تو اُس پر کوئی اِلزام نہیں ، تاہم’’ اِحتیاطاً دوسروں  سے مدد نہ مانگنا‘‘ شیطان کا بَہُت بڑا اور بُرا وار ہے کہ اُس نے اِس شخص کا ذِہْنمُنْتَشِر کر رکھا ہے جبھی تو ’’ احتیاط‘‘ کے نام پراِس ’’ وسوسے ‘‘ کے مطابِق عمل کر رہا ہے کہ ہو سکتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کسی اور سے مدد مانگنا کوئی غَلَط کام ہو! اگر یہ وَسوَسے کا شکار نہ ہوتاتو اسے  ’’ احتیاط ‘‘کا نا م دیتا ہی کیوں !اُسے اپنے وَسوَسوں  کا علاج کرنا ضَروری ہے ، کیوں  کہ