Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
83 - 96
چوتھے یہ کہ حوریں  آج بھی اپنے خاوَند انسانوں  کو جانتی پہنچانتی ہیں  ، پانچواں  یہ کہ آج بھی حُوروں  کو ہمارے دُکھ سے دُکھ پہنچتا ہے ، ہمارے مخالِف سے ناراض ہوتی ہیں  ۔ جب حوروں  کے علم کا یہ حال ہے تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جو تمام خَلق سے بڑے عالم ہیں  ان کے علم کا کیا پوچھنا !مفتی صاحب آگے چل کر مزید فرماتے ہیں  : چھٹے یہ کہ حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنّت کے حالات(اور) حوروں  کے کلام سے خبردار ہیں  مگر یہ کلام وہ ہی حُور کرتی ہے جس کازَوج (یعنی شوہر)اس گھر میں  ہو۔ یعنی ترمذی میں  یہ حدیث غریب ہے ابن ماجہ کی روایت میں  نہیں  مگر یہ غَرابَت مُضِر نہیں  ، کیونکہ اِس حدیث کی تائید قراٰنِ کریم سے ہو رہی ہے۔  ربّ تعالیٰ فِرِشتوں  کے مُتَعلِّق فرماتا ہے:یَعْلَمُوۡنَ مَا تَفْعَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾(الانفطار:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:کہ جانتے ہیں  جو کچھ تم کرو 
 اورابلیس و ذُرِّیَّتِ ابلیس کے مُتَعلِّق فرماتا ہے: اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ہُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ ؕ(پ۸، الاعراف:۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں  وہاں  سے دیکھتے ہیں  کہ تم انہیں  نہیں  دیکھتے۔
جب حدیث کی تائید قراٰنِ مجید سے ہو جائے تو ’’ضعیف ‘‘بھی’’ قوی‘‘ ہو جاتی ہے۔(مراٰۃ ج۵ ص۹۸) بہر کیف عالمِ آخِرت کے مُعاملات وَہْبی (یعنی اللہ تَعَالٰی کی طرف سے عطا کردہ)اور خلافِ عادت ہیں  انہیں  اس دنیا کے مُعاملات پر قِیاس نہیں  کیاجاسکتا۔ یعنی  جو اُمور دنیا میں  کَسْبی(کوشش سے حاصل کئے جاتے ) ہیں  وہ وہاں  محض وَہْبی ہوجاتے ہیں۔