Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
82 - 96
جنَّتی حُور کا دوسری زَبانیں  سمجھ لینا
 	 فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: جب کوئی عورت اپنے شوہر کو دُنیا میں ستاتی ہے تو اس کی بیوی سے جنّتی حُور کہتی ہے: لَا تُوْذِیْہِ قَاتَلَکِ اللہُ فَاِنَّمَا ہُوَ عِنْدَکِ دَخِیْلٌ یُوْشِکُ اَنْ یُّفَارِقَکِ اِلَیْنَا۔ یعنی اللہ تجھے غارت کرے اسے تکلیف نہ پہنچا وہ تیرے پاس چند دن کا مہمان ہے عنقریب وہ تجھ سے جُداہوکر ہمارے پاس آنے والا ہے۔(ترمذی ج۲ص۳۹۲ حدیث ۱۱۷۷)جب حور دوسری زَبان سمجھ سکتی ہے تو  اولیاء کے سردارسرکارِ غوث اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم وَفات کے بعد دوسری زَبانیں  کیوں  نہیں  سمجھ سکتے! 
حدیثِ پاک کی ایمان افروز شرح
	مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اِ س حدیثِ پاک کے تحت مراٰۃ جلد 5صفحہ98پر فرماتے ہیں :اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے ،ایک یہ کہ حُوریں  نورانی ہونے کی وجہ سے جنّت میں  زمین کے واقعات دیکھتی ہیں  ، دیکھویہ لڑائی ہو رہی ہے کسی گھر کی بند کو ٹھری میں  اور حور دیکھ رہی ہے ! یہاں  (صاحب)مِرقات(حضرتِ سیِّدُنا مُلّاعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی) نے فرمایا کہ مَلاءِ اعلیٰ دنیا والوں  کے ایک ایک عمل پر خبر دارہیں۔دوسرے یہ کہ حوروں  کو لوگوں  کے انجام کی خبر ہے کہ فُلاں  مومِن مُتقی مریگا۔ (جبھی تو کہتی ہے: عنقریب تجھے چھوڑ کرہمارے پاس آئیگا) تیسرے یہ کہ حوروں  کو لوگوں  کے مقام کی خبر کہ بعد قیامت یہ جنّت کے فُلاں  درَجے میں رہے گا۔