11،11 بار سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص پڑھے ، سلام پَھیر کر 11مرتبہ صلوٰۃ وسلام(مَثَلاً اَلصّلٰوۃُ والسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ) پڑھے پھر بغداد کی طرف (پاک وہندمیں جانِبِ شمال) 11قدم چلے ہر قدم پر میرا نام لے کر اپنی حاجت عَرض کر ے اوریہ دو شعر پڑھے:
اَیُدْرِکُنِیْ ضَیْمٌ وَاَنْتَ ذَخِیْرَتِیْ وَاُظْلَمُ فِی الدُّنْیَا وَ اَنْتَ نَصِیْرِیْ
وَعَارٌعَلٰی حَامِی الْحِمٰی وَھُوَمُنْجِدِیْ اِذَا ضَاعَ فِی الْبَیْدَاءِ عِقَالُ بَعِیْرِیْ
کیا مجھ پر ظلم کیا جائے گا ؟ جب کہ آپ میرا سرمایہ ہیں اور کیا دنیا میں مجھ پر ستم کیا جائے گا؟ جب کہ آپ میرے مددگار ہیں۔ غوثِ پاکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم کے پشت پناہ ہوتے ہوئے اگر جنگل میں میرے اُونٹ کی رسی گم ہو جائے تو یہ بات محافظ کیلئے باعث عار ہے۔
یہ کہہ کر حضرتِ مُلا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی فرماتے ہیں :وَقَدْ جُرِّبَ ذٰلِکَ مِرَاراً فَصَحَّیعنی بار ہا اس نمازِ غوثیہ کا تجربہ کیا گیا ، دُرُست نکلا۔ (نزہَۃُ الخاطر ص۶۱ )
حُسنِ نیّت ہو خطا تو کبھی کرتا ہی نہیں
آزمایا ہے یگانہ ہے’’ دوگانہ‘‘ تیرا(حدائقِ بخشش شریف)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے! حضورِ غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَم مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں کہ مصیبت کے وقت مجھ سے مدد مانگو اور حنفیوں کے مُعتبر عالم حضرتِ سیِّدُنا مُلّا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی اسے بِغیر تردیدنَقْل کرکے فرماتے ہیں کہ ’’ اس کا تجرِبہ کیا گیا، بِالکل صحیح ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ بُزُرْگوں سے بعدِ وفات مدد مانگنا نہ صِرف جائز
بلکہ فائدہ مند بھی ہے۔ (جاءَ الحق ص ۲۰۷)