اِلاَّبِاللہِ الْحَقِّ الْمُبِیْن، مسلمان دیکھیں کہ یا علی یا علی (کہنے ) کوشرک ٹھہرانے کی کیا سزا ملی!نہ ناحق مسلمانوں کومُشرِک کہتے نہ اگلوں پچھلوں کے مُشرِک بننے کی مصیبت سہتے، اس سے یِہی بہتر کہ راہِ راست پر آئیں ، سچے مسلمانوں کو مُشرِک نہ بنائیں ورنہ اپنوں کے ایمان کی فکر فرمائیں۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرجہ ج ۹ص۸۲۱،۸۲۲ مُلَخَّصاً)
سخت دشمن ہے حسن کی تاک میں
المدد محبوبِ یزداں الغیاث (ذوق نعت)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’یا غوث‘‘ کہنے کاثُبُوت
سُوال(11):کیا اِسی طرح ’’ یا غوث‘‘ کہنے کا ثُبُوت بھی مل سکتا ہے؟
جواب:کیوں نہیں۔ یوں تو کافی دلائل گزرے ، صَراحَت بھی حاضِر ہے، چنانچِہ مشہور ومعروف حنفی عالِم حضرتِ علّامہ مولانا مُلّاعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِینَقْل کرتے ہیں : حُضُور غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْاَکْرَمفرماتے ہیں :’’ جو کوئی رنج و غم میں مجھ سے مدد مانگے تو اس کا رنج و غم دور ہو گا اور جو سختی کے وَقْت میرا نام لے کر مجھے پکارے تو وہ شدَّت دَفْع ہو گی اور جو کسی حاجت میں ربُّ العزّت کی طرف مجھے وسیلہ بنائے تو اُس کی حاجت پوری ہو گی ۔‘‘ حضرتِ علّامہ مولاناعلی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمزید لکھتے ہیں : حُضُور غوثِ پاک نَمازِغَوثِیہ کی ترکیب بتاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ دو رَکْعت نَفْل پڑھے، ہر رَکْعت میں سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃ کے بعد