حضرت ،امامِ اہلِسنّت ،مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ جلد 9 صَفْحَہ821تا 822 پر لکھتے ہیں : ’’شاہ محمد غوث گَوالیاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیکی کتاب’’جَواہِر خَمسہ‘‘ جس کے وظائف کی جَیِّد وبُزُرْگ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اجازَتیں دِیں جن میں شاہ ولیُّ اللہ مُحدِّث دِہلوی بھی شامل ہیں ،اِس کتاب میں ہے،’’نادِ علی َہفْت بار یاسَہ بار یایک بار بخوانْدہ و آں اِیں اَسْت ۔ یعنی سات بار ،یا تین بار ،یا ایک بار نادِ علی پڑھے، اور وہ یہ ہے: نَادِ عَلِیًّا مَّظْھَرَ الْعَجَائِبِ تَجِدْہُ عَوْنًا لَّکَ فِی النَّوَائِبِ کُلُّ ھَمٍّ وَّغَمٍّ سَیَنْجَلِیْ بِوِلَایَتِکَ یَاعَلِیُّ یَاعَلِیُّ یَاعَلِیُّ ترجمہ:حضرت علی کو پکار جو عجائب کے مَظْہر ہیں انہیں تمام مصیبتوں میں اپنا مددگا ر پائے گا، ہر رنج وغم دُور ہو جائے گا،آپکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی ولِایت سے ،یا علی ،یا علی،یا علی۔(جَواہرِ خمسہ مُتَرجَم ص۲۸۲،۴۵۳)
اگر ’’یا علی‘‘ کہنا شِرْک ہو تو۔۔۔۔۔
اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمزید فرماتے ہیں :اگر مولا علی کو مُشکِل کُشا ماننا، مصیبت کے وَقت مددگار جاننا، ہنگامِ(یعنی وقتِ)غم وتکلیف اُس جناب کونِدا کرنا، یا علی یا علی کا دم بھرنا شِرْ ک ہو تومَعَاذَ اللہیہ سارے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کُفاّر ومُشرِکین ٹھہریں اور سب سے بڑھ کر بھاری مشرِککٹَّر کافر عِیاذاًبِاللہ(یعنیاللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ) شاہ ولیُّ اللہ ہوں جو مشرِکوں کو اولیاءُ اللہ جانتے ۔۔۔۔۔۔ اَلْعِیَاذُ بِاللہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ