جواب:کیوں نہیں ۔ کروڑوں حنفیوں کے پیشواحضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں مدد کی درخواست کرتے ہوئے ’’قصیدۂ نُعمان‘‘ میں عرض کرتے ہیں :
یَا اَکْرَمَ الثَّقَلَیْنِ یَا کَنْزَ الْوَرٰی جُدْ لِیْ بِجُوْدِکَ وَاَرْضِنِیْ بِرِضَاکَ
اَنَا طَامِعٌ بِالْجُوْدِ مِنْکَ لَمْ یَکُنْ لِاَبِیْ حَنِیْفَۃَ فِی الْاَنَامِ سِوَاکَ
یعنی اے جنّ وانس سے بہتر اورنعمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے خزانے ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جو آپ کو عنایت فرمایا ہے اُس میں سے مجھے بھی عطا فرمائیے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو جو راضی کیا ہے آپ مجھے بھی راضی فرمائیے۔میں آپ کی سخاوت کا امیدوار ہوں ، آپ کے سوا ابوحنیفہؔ کا مخلوق میں کوئی نہیں ۔
(قصیدۂ نعمانیہ مع الخیرات الحسان ص ۲۰۰)
پڑے مجھ پر نہ کچھ افتاد یاغوث
مدد پر ہو تری امداد یاغوث(ذوق نعت)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’یا علی مدد ‘‘کہنے کا ثُبُوت
سُوال(10): ’’یا علی مدد ‘‘ کہنے کی صَراحت کے ساتھ اگر دلیل مل جائے تو مدینہ مدینہ۔
جواب:پچھلے صَفْحات پر غیرِ خدا سے اُس کی ظاہِری حیات اور بعدِ مَمات مدد مانگنے کے دلائل گزرے۔ تاہم صَراحَۃً ’’یا علی مدد‘‘ کہنے کی دلیل بھی مُلاحَظہ ہو چُنانچِہمیرے آقااعلیٰ