Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
76 - 96
خدا عَزَّوَجَلَّکا ہرپیارا زندہ ہے 
	سُبْحٰنَ اللہ!وَلِیُّ اللہ کی بعدِ وفات والی حیات بھی کیا خوب ہے! کہ اولیا کی شان بھی بیان کر دی اور دیکھنے والے کا نام بھی بتا دیا! اِسی سے ملتی جلتی ایک اور حِکایت مُلاحَظہ ہو چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابو علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں  کہ میں  نے ایک فقیر کو قبر میں  اُتارا ،جب کَفَن کھولا اور اُس کا سر خاک پر رکھا تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی غُربَت پر رَحم فرمائے،تو اُس نے اپنی آنکھیں  کھول دیں  اور مجھ سے فرمایا:’’اے ابو علی!آپ مجھے اُس کے سامنے ذلیل کرتے ہیں  جو کہ میرے ناز اُٹھاتاہے!‘‘میں  نے سنبھل کر کہا:یاسیِّدی (یعنی اے میرے سردار!)کیا موت کے بعد بھی زندگی ہے؟اُس نے جواب دیا:’’بَلٰی اَنَا حَیٌّ وَّ کُلُّ مُحِبٍّ لِلّٰہِ حَیٌّ۔یعنی ہاں  کیو ں  نہیں  ،میں  زندہ ہوں  اور خدا کا ہر محبوب(یعنی پیارابندہ) زندہ ہے ۔‘‘(شرحُ الصّدور ص۲۰۸)
اولیاء کس نے کہا کہ مرگئے
قید سے چھوٹے وہ اپنے گھر گئے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُوال(9): میں  حنفی ہوں ، یہ بتا دیجئے کیا میرے امام، امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بھی کبھی غیرُ اللہ سے مدد مانگی ہے؟