غیرُ اللہ سے مدد مانگنے کے متعلِّق شافِعی مفتی کا فتویٰ
شیخُ الاسلام حضرتِ سیِّدُناشَہاب رَملی انصاری شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ( مُتَوَفّٰی ۱۰۰۴ھ ) سے فتویٰ طلب کیاگیا :(یا سیّدی یہ ارشاد فرمایئے:)’’عام لوگ جو سختیوں (یعنی مصیبتوں ) کے وَقْت مَثَلاً ’’یا شیخ فُلاں !‘‘ کہہ کرپکارتے ہیں اور انبیاء کرام واولیائے عِظام عَلَیْہِمُ السَّلام و رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے فریاد کرتے ہیں ،اس کا شَرْع شریف میں کیا حکم ہے؟‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فتویٰ دیا :’’ا نبیاء ومُرسَلین واولیاء وعُلَماء وصالحین عَلَیْہِمُ السَّلام و رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے ان کے وِصال(یعنی انتِقال) شریف کے بعد بھی اِستِعانَت واِستِمداد(یعنی مدد طلب کرنا )جائز ہے۔‘‘ (فتاوی رملی ج۴ ص۷۳۳)
مرحوم نوجوان نے مسکرا کر کہا کہ..........
امام عارِف بِاللہ اُستاذ ابو القاسِم قُشَیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں کہ مشہور وَلِیُّ اللہ حضرتِ ابو سعیدخَرَّازرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے مکّۂ معظمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں ایک نوجوان کو ’’بابِ بنی شَیْبَہ ‘‘پر فوت شدہ پڑا پایا ۔اچانک وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہا:یَااَبَا سَعِیْدٍ!اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ الْاَحِبَّاءَ اَحْیَاءٌ وَّاِنْ مَّاتُوْا وَاِنَّمَا یُنْقَلُوْنَ مِنْ دَارٍ اِلٰی دَارٍ۔یعنی اے ابو سعید! کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب (پیارے) بندے زندہ ہیں ،اگرچِہ وہ فوت ہو جائیں ، مُعامَلہ تو صرف اتنا ہے کہ وہ تو ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرفمُنْتَقِل(مُنْ۔تَ۔قِل) کئے جاتے ہیں ۔ (رسالۂ قُشَیریہ ص۳۴۱)