ہے۔اِس حیات پر وُہی اَحکامِ دُنْیَوِیہ ہیں ، ان کا تَرکہ(یعنی وِرثہ) بانٹا نہ جائے گا، ان کی اَزْواج کونِکاح حرام نیز اَزواجِ مُطَہَّرات پر عِدَّت نہیں ، وہ اپنی قُبُور میں کھاتے پیتے نَماز پڑھتے ہیں۔ عُلَما وشُہَداء کی حیاتِ بَرْزَخِیَّہ(یعنی برزَخ کی زندگی) اگرچِہ حیاتِ دُنْیَویہ (یعنی دُنیوی زندَگی) سے افضل واَعلیٰ ہے مگر اس پر اَحْکامِ دُنیویہ جاری نہیں اور ان کاتَرکہ(یعنی وِرثہ) تقسیم ہوگا ، ان کی اَزواج(یعنی بیویاں ) عِدَّت کریں گی۔ (مُلَخَّص ازملفوظات اعلیٰ حضرت ص۳۶۱)
میِّت کی امداد قَوی تَر ہے
مذکورہ دلائل سے جب یہ ثابِت ہو گیا کہ انبِیاء واَولیاء عَلَیْہِمُ السَّلام و رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی اپنے مَزارات میں حیات ہیں ،تو جس دلیل کے ساتھ اُن سے اُن کی حیاتِ ظاہِری میں مدد طلب کرنا جائز ہے بِالکل اُسی دلیل کے باعث دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد بھی جائز ودُرُست ہے۔چنانچِہمُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثِین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں کہ حضرتِسیِّدُنا احمد بن مَرزُوقعَلَیْہ رَحمَۃُ اللہِ القُدّوس فرماتے ہیں: ایک دن شیخ ابو العبّاس حَضْرَمِی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامی نے مجھ سے دریافْتْ کیا کہ’’زندہ کی اِمداد زیادہ قَوی ہے یا میِّت کی؟‘‘میں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زندہ کی امداد زیادہ قَوی(یعنی مضبوط) ہے اور میں کہتا ہوں کہ میِّت کی امداد قَوی تَر(یعنی زیادہ مضبوط) ہے۔شیخ نے فرمایا:’’ہاں ،یہ بات دُرُست ہے کیونکہ وفات یافتہ بُزُرگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس کے ہاں ہوتے ہیں ۔‘‘ (اشعۃ اللمعات ج۱ ص۷۶۲)