دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ارشاد فرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی اس دارِ فانی (یعنی خَتْم ہو جانے والی دُنیا)سے دارِ بَقا(یعنی باقی رہنے والے جہان) کی طرف منتقل (TRANSFAR)ہو جاتے ہیں ،وہ اپنے پَرْوَرْدَگار(عَزَّوَجَلَّ)کے پاس زندہ ہیں ،انھیں رِزْق دیا جاتا ہے اور خوش وخُرَّم ہیں لیکن لوگوں کو اس کا شُعُور (سمجھ)نہیں ۔(اشعۃُ اللّمعات ج۳ ص۴۲۳مُلَخَّصاً ) حضرتِ عَلَّامہعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے ارشاد فرمایا:لَا فَرْقَ لَھُمْ فِی الْحَالَیْنِ وَلِذَا قِیْلَ اولیاءُ اللہِ لَا یَمُوْتُوْنَ وَلٰکِنْ یَّنْتَقِلُوْنَ مِنْ دَارٍ اِلٰی دَارٍ یعنی اولیاءِ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکی دونوں حالتوں (یعنی زندگی اور موت )میں اَصْلاً فرق نہیں ،اِسی لئے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔(مِرقاۃُ المفاتیح للقاری ج ۳ ص۴۵۹)
اولیا ہیں کون کہتا مر گئے
’’فانی گھر ‘‘سے نکلے ’’باقی گھر‘‘ گئے
حیاتِ انبِیاء اور حیاتِ اولیاء میں فرق
اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ایک سُوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی حیاتِ بَرْزَخِیَّہ(یعنی برزَخ کی زندَگی)، حیاتِ حقیقی حِسّی دُنیاوی ہے،ان پر تصدیقِ وَعْدَئہ اِ لٰہِیَّہ کے لیےمَحْض ایک آن کو موت طاری ہوتی ہے پھر فوراً اُن کو وَیسے ہی حیات عطا فرمادی جاتی