کومُردہ کہو اور نہ ہی سمجھو۔ چنانچِہ ارشاد ہوتا ہے : وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتٌ ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنۡ لَّا تَشْعُرُوۡنَ﴿۱۵۴﴾(پ۲، البقرۃ:۱۵۴)
ترجَمۂ کنزالایمان:اور جو خداکی راہ میں مارے جائیں انہیں مُردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں ،ہاں تمہیں خبر نہیں ۔
مُفَسِّرشَہِیر حکیم الامّت حضرتِ مفتی احمد یارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان لکھتے ہیں :جب یہ زندہ ہوئے تو ان سے مدد حاصل کرنا(بھی)جائز ہوا۔ جو حَضْرات عشقِ الٰہی کی تلوار سے مقتول ہوئے (یعنی قتل کئے گئے ) وہ بھی اِس میں داخِل ہیں۔ اسی لئے حدیثِ پاک میں آیا کہ جو ڈوب کر مرے،جل جاوے،طاعون (PLAGUE) میں مرے، عورت زَچگی کی حالت میں مرے۔ طالبِ علمِ(دِین)، مسافِر وغیرہ سب شہید ہیں ۔(جاءَ الحق ص۲۱۸) اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن’’ فتاوٰی رضویہ ‘‘ جلد29صَفْحَہ 545 پرفر ماتے ہیں : اولیائے کرام بعدِ وفات زندہ ہیں ،مگر نہ مِثلِ انبِیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام (کیونکہ)انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی حیات’’روحانی، جسمانی، دنیاوی ‘‘ ہے، (یہ حَضرا ت انبیاء)بالکل اُسی طرح زندہ ہوتے ہیں ،جس طرح دُنیامیں تھے ،اور اولیا ئے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی حیات ان سے کم اورشُہَداء سے زائد،جن کے بارے میں قراٰنِ عظیم میں فرمایا: ’’ان(یعنی شہیدوں ) کومُردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ج۲۹ ص۵۴۵)مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق، خاتِمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث