حضرت سیِّدُناامام مُناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے فرمایا:’’یہ حدیث صحیح ہے ۔‘‘(فیضُ القدیرج۳ ص۲۳۹)عُلَماءِ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ بعض اوقات انسان مُکلَّف(پابند) نہیں ہوتا پھر بھی لُطف اندوز ہونے کے لئے اعمال ادا کرتا ہے ،جیسا کہ انبیاءِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اپنی مبارَک قبروں میں نماز پڑھنا حالانکہ(صِرف دنیا دارُالعمل ہے) آخِرت دارُالعمل(نیکیاں کرنے کی جگہ) نہیں۔
حضرتِ سیِّدُنا موسیٰعَلَیْہِ السَّلاممزار میں نَماز پڑھ رہے تھے
حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: شبِ مِعراج (حضر تِ )موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلام) کے پاس سے ہمارا گزر ہوا وہ سُرْخ ٹیلے کے پاس اپنی قبرمیں نَماز پڑھ رہے تھے ۔(مُسلم ص۱۲۹۳ حدیث ۲۳۷۴)
انبیاء کو بھی اَجَل آنی ہے مگر ایسی کہ فَقَط’’آنی‘‘ہے
پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حیات مِثْلِ سابِق وُہی جسمانی ہے
روح تو سب کی ہے زندہ اُن کا
جسمِ پُرنور بھی روحانی ہے(حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اولیاءُ اللہ بھی زندہ ہیں
قراٰنِ کریم سے ثابِت ہے کہ شہدائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامزندہ ہیں نہ ان