Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
70 - 96
فرمانے کے بعد بھی زندہ ہوتے ہیں  اوریوں  ہم زندوں  ہی سے مدد مانگتے ہیں  ۔ یہ حضرات زندہ ہوتے ہیں  ان کے دلائل مُلا حَظہ ہوں : 
انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامزندہ ہیں 
      انبیا ءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامپرمَحْض ایک آن موت طاری ہوتی ہے پھر فوراً اُن کو  ویسی ہی حیات یعنی زندَگی عطا فرمادی جاتی ہے۔جیسی دُنیا میں  تھی۔ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی حیات(عالَم برزَخ کی زندَگی) روحانی، جسمانی، دنیاوی ہے ، (یہ حَضرا ت انبیاء)بعینہٖ  اُسی طرح زندہ ہوتے ہیں  ،جس طرح دُنیامیں  تھے(فتاوٰی رضویہ ج ۲۹ص۵۴۵)سرکارِ مدینۂ منوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ ذیشان ہے: اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِِ اَنْ تَــــأْکُلَ اَجْسَادَ الْانبیاءِ فَنَبِیُّ اللہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ یعنی اللہ تَعَالٰینے انبیا ء کے اَجسام(یعنی جِسموں ) کو مٹّی پر حرام فرمادیا ہے،اللہکے نبی زندہ رَہتے ہیں انہیں  رِزْق دیا جاتا ہے۔ (ابن ماجہ ج۲ص۲۹۱ حدیث۱۶۳۷)معلوم ہوا ،انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام زندہ ہیں  نیز صحیح احادیثِ مبارَکہ سے یہ بھی ثابِت ہے کہ حج ادا فرماتے اوراپنے اپنے مَزاروں میں  نَمازیں  بھی پڑھتے ہیں  ،چُنانچِہ حضرت سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: اَلْانبیاء اَحْیَاء ٌ فِی قُبُورِہِمْ یُصَلُّونَ‘‘یعنی انبیا ء اپنی قبروں  میں  زندہ ہیں، نماز پڑھتے ہیں  ۔(مُسْنَدُ اَبِیْ یَعْلٰی ج۳ ص۲۱۶ حدیث۳۴۱۲)