’’اللہ کے بندوں ‘‘ سے مُراد کون لوگ ہیں ؟
سوال(7):جنگل میں بندگانِ خدا سے مدد مانگنے کی جو ترغیب دی گئی ہے یہاں اللہ کے بندوں سے مُراد کون لوگ ہیں؟
جواب: حضرتِ سیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی حِصنِ حَصِین کی شَرْح، ’’ اَلْحِرْزُالثَّمِین‘‘ صفحہ 254 پر فرماتے ہیں :’’(یہاں ) بندوں سے یا تو فِرِشتے یا مسلمان جِنّ یا رِجالُ الغیب یعنی اَبدال مُراد ہیں۔‘‘
بے یار ومدگار جنہیں کوئی نہ پوچھے
ایسوں کا تجھے یارو مددگار بنایا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مُردے سے مد د کیوں مانگیں؟
سُوال(8):مان لیا کہ زندہ ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں جنگل میں بندوں کوپکارنا بھی سمجھ میں آ گیاکہ جنگل میں تو آج کل پولیس کی موبائل بھی مدد کیلئے بسا اوقات دستیاب ہو جاتی ہے اگرچِہ حدیثِ پاک میں پولیس مُرا د نہیں تاہم آدمی ان سے مدد تو حاصِل کر سکتا ہے اور موبائل فون کے ذَرِیعے بھی کسی کو مدد کیلئے بُلا سکتا ہے۔مگر’’ مُردے‘‘ سے کیسے مدد مانگی جائے؟
جواب:: جو واقِعی مُردہ ہواُس سے بے شک مدد نہ مانگی جائے مگرانبیا ء واولیاء تو پردہ