تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)!میں حُضُور کے ذَرِیعے سے اپنے ربّ(عَزَّوَجَلَّ)کی طرف اپنی حاجت کے بارے میں مُتوجِّہ ہوتا ہوں تاکہ میری حاجت پوری ہو۔یا اللہ! ان کی شَفاعت میرے حق میں قَبول فرما۔حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن حُنَیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ خدا (عَزَّوَجَلَّ)کی قسم ! ہم اُٹھنے بھی نہ پائے تھے ،باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آئے گویا کبھی نابینا ہی نہیں تھے!‘‘(بہار شریعت ج۱ص۶۸۵، ابنِ ماجہ ج ۲ ص ۱۵۶ حدیث ۱۳۸۵،تِرمذی ج۵ص۳۳۶حدیث۳۵۸۹،اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر ج ۹ ص ۳۰ حدیث ۸۳۱۱ )
’’یارسولَ اللہ‘‘ والی دعا کی بَرَکت سے کام بن گیا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حدیثِ مبارکہ سے دُور سے ’’یا رسول اللہ‘‘ کہنے کی اجازت ثابِت ہوتی ہے کیونکہ اُن صحابی نے الگ سے کسی کونے میں جا کر چُپکے چُپکے ہی ’’ یا رسول اللہ‘‘ پکارا ہے! اور حق یہ ہے کہ یہ اجازت اُس ’’نابینا صَحابی ‘‘کیلئے مخصوص نہ تھی بلکہ بعدِ وفات ظاہِری تاقِیامِ قِیامت اِس کی بَرَکتیں موجود ہیں ۔حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن حُنَیف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے امیرُ المؤمنین ، جامِع القراٰن حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عَفَّان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانۂ خلافت میں یہی دُعا ایک صاحبِ حاجت کو بتائی۔’’طَبَرانی ‘‘میں ہے: ایک شخص اپنی کسی ضرورت کو لے کر حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن حُنَیفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمتِ اَقدَس میں حاضِرہواآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : وُضُو کرو پھر مسجِد میں دورَکْعت نَماز ادا کرو پھر یہ دعا مانگو: (یہاں وُہی دعا بتائی جو ابھی حدیثِ پاک میں صفحہ64پر گزری) اور(فرمایا:اس دعا کے