Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
66 - 96
آخِری لفظ) حَاجَتِیْ کی جگہ اپنی حاجت کا نام لینا۔وہ آدَمی چلا گیا اور جیسا اس کو کہا گیا تھا اس نے ویساہی کیااور اس کی حاجت پوری ہوگئی۔(اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر ج۹ص۳۰ حدیث۸۳۱۱ مُلَخَّصاً)
بعد وفات آقا نے مدد فرمائی
	حضرتِ سیِّدُنا امام بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِیکے محترم استاد حضرت امام ابنِ ابی شَیبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں  : امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے دورِ خلافت میں  قَحط سالی ہوئی، ایک صاحِب حضورِ انور، محبوبِ ربِ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے روضۂ اطہر پر حاضِر ہوئے اور عرض کی:’’یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!اپنی امّت کیلئے بارِش طلب فرمایئے، کہ لوگ ہلاک ہو رہے ہیں  ۔‘‘ جنابِ رسالتِ مآب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُن صاحِب کے خواب میں  تشریف لا کر ارشاد فرمایا: عمر کے پاس جا کر میرا سلام کہو اور ان کو خبر دو کہ بارش ہو گی۔(مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہ ج ۷ ص ۴۸۲ حدیث۳۵مختصراً) وہ صاحِب صحابیِ رسول حضرتِ سیِّدُنا بلال بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔حضرتِ سیِّدُنا امام ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا: یہ روایت امام ابنِ ابی شَیبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے صحیح اَسناد کے ساتھ بیان کی ہے ۔         (فَتحُ الباری ج ۳ ص۴۳۰تَحتَ الحدیث۱۰۱۰)
غم و آلام کا مارا ہوں  آقا بے سہارا ہوں
مری آسان ہو ہر ایک مشکل یارسولَ اللہ!(وسائلِ بخشِش ص۱۳۴ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد