{۲}’’بھلائی اوراپنی حاجتیں اچّھے چِہرے والوں سے مانگو۔‘‘ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر لِلطّبَرانی ج۱۱ص۶۷حدیث۱۱۱۱۰ )
اللہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے: فَضْل میرے رَحْم دل بندوں سے مانگو ان کے دامن میں آرام سے رہوگے کہ میں نے اپنی رحمت ان میں رکھی ہے ۔ (مسندُ الشّہاب ج۱ ص۴۰۶ حدیث۷۰۰)
نابینا کو آنکھیں مل گئیں
حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن حُنیَف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راویت ہے کہ ایک نابینا صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں حاضِرہو کر عَرْض کی: اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دُعا کیجئے کہ مجھے عافیَّت دے۔ ارشاد فرمایا:’’ اگر تو چاہے تو دُعا کروں اور چاہے صَبْر کر اور یہ تیرے لئے بہتر ہے۔‘‘انہوں نے عَرْض کی:حُضُور! دُعا فرمادیجئے ۔ انہیں حکم فرمایا کہ وُضو کرو اوراچّھا وُضو کرو اور دو رَکْعَت نَماز پڑھ کر یہ دُعا پڑھو:اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ اَتَوَسَّلُ وَاَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ نَّبِیِّ الرَّحْمَۃِط یَامُحَمَّدُ ۱ اِنِّیْ تَوَجَّھْتُ بِکَ اِلٰی رَبِّیْ فِیْ حَاجَتِیْ ھٰذِہٖ لِتُقْضٰی لِیْ ط اللھُمَّ فَشَفِّعْہُ فِیّط اے اللہ(عَزَّوَجَلَّ) میں تجھ سے سُوال کرتا ہوں اور توسُّل(یعنی وسیلہ پیش) کرتا ہوں اور تیری طرف مُتوجِّہ ہوتا ہوں تیرے نبی محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے ذَرِیعے سے جو نبیِّ رَحمت ہیں۔ یَامُحَمَّد (صَلَّی اللہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱ ؎ اس دعا کا وظیفہ کرتے وقت’’یَا محمد‘‘صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کہنے کے بجائے یا رسولَ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کہنا ہے۔اس کے دلائل فتاوٰی رضویہ جلد30رسالہ’’تجلی الیقین ‘‘ صفحہ 156تا 157پرمُلاحظہ کیجئے۔