’’باہمی امداد‘‘ ہے!اِس میں صَدَقہ وخیرات ،فِطرہ وزکوٰۃ، مساجدو مدارِس کیلئے چندہ و عَطِیّات ، قربانی کی کھالوں کے مطالَبات، سماجی اِدارات ،وغیرہ وغیرہ سب کا مَفاد اِمداد ، اِمداد اور اِمداد ہی تو ہے ! مزید آگے بڑھئے تو مظلوموں کی مدد کیلئے عدالت ہے تو مریضوں کی امداد کیلئے طِبابت ، اندرونِ مُلک کے باشندوں کی مدد کیلئے پولیس کی نِظامت ہے تو بَیرونی دشمنوں سے حفاظت کیلئے فوجی طاقت ، اولاد کی پرورش میں مدد کیلئے ماں باپ کی ضرورت ہے تو ان کی تعلیم و تربیّت کیلئے تعلیم گاہ کی حاجت ۔اَلغَرَض زندَگی میں قد م قدم پر غیرُ اللہ کی مَدَد و حمایت کی ضرورت ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی تکفین و تدفین بِغیر غیرُ اللہ کی مدد کے ممکن نہیں ، پھر تا قیامت ایصالِ ثواب کے ذَرِیعے مدد کی حاجت ہے اور آخِرت میں بھی سب سے اہم مدد کی ضَرورت ہے یعنی پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت۔ یہ سب غیرُاللہ کی مددیں ہی ہیں ؎
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قِیامت میں اگر مان گیا(حدائق بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
غیرِ خدا سے مدد مانگنے کی احادیثِ مبارَکہ میں ترغیب
سُوال(5):غیرُ اللہ سے مدد مانگنے کی ترغیب پر کچھ احادیثِ مبارکہ بھی بیان کر دیجئے۔
جواب: غیرِ خدا سے مدد مانگنے کی ترغیب سے مُتعلِّق دو فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مُلاحَظہ ہوں :{۱}میرے رَحْم دل اُمّتیوں سے حاجتیں مانگو رزْق پاؤگے۔(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۷۲حدیث ۱۱۰۶)