اِس آیت مبارَکہ کی تفسیر یہ کی گئی ہے: ’’اورباہم دینیمَحَبَّت وموالات رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے مُعِین و مدد گار ہیں۔‘‘( خزائن العرفان ،پ۱۰، التوبہ ۷۱)صحیح اِسلامی عقیدے کے مطابِق اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتے ہوئے انبیاء کرام اور اولیاءے کرام سے مددطلب کرے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اجازت کے بِغیربذاتِ خودنفع و نقصان کے مالک ہیں تویہ یقیناًشرک ہے جبکہ اِس کے برعکس اگر کوئی شخص حقیقی مددگاراورنَفْع و نقصان کاحقیقی مالِک اللہ تَعَالٰی کو مان کر کسی کومَجازًا (یعنی غیر حقیقی طورپر)اورمحض عطائے الٰہی سے مددگارسمجھتے ہوئے مددچاہے تو ہرگز شِرک نہیں اوریہی ہماراعقیدہ ہے ۔
بَہَرحال سورۃُ الفاتحہ کی آیتِ مبارکہ(اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُ یعنیہم تجھی سے مدد چاہیں ) حق ہے، مگر شیطان کا بُرا ہو کہ یہ لوگوں کو وسوسے ڈال کر غَلَط فہمیوں کا شکار کر دیتا ہے۔ غورفرمایئے! آیتِ مبارکہ میں زندہ مُردہ وغیرہ کی تخصیص کئے بغیر مُطْلقًا یعنی ہر حال میں اللہ تَعَالٰی کے سوا دوسرے سے مد د مانگنے کی نفی یعنی انکار کیا گیا ہے۔آیتِ مبارکہ کے ظاہِری ولفظی معنیٰ کے اعتِبار سے جو کہ’’ اہلِ وَسوَسہ‘‘ نے سمجھا ہے کوئی دوسرا تو ٹھیک یہ خود بھی ’’شرک‘‘ سے نہیں بچ سکتے مَثَلاً وزْن دار گٹھری زمین پر رکھی ہے اٹھا نہیں پا رہے ، کسی کو آواز دے کر کہا: برائے مہربانی! اٹھانے میں ذرا میری مدد کر دیجئے تا کہ سر پررکھ لوں۔‘‘اس وسوسے کے مطابِق یہ شرْک ہوا یا نہیں ؟ضَرور ہوا۔ اِس طرح کی ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں ، بس چاروں طرف غیرِ خدا کی امدادوں کے نظّارے ہیں۔مَثَلاً اِنْفاق فِی سبیلِ اللہ یعنی راہِ خدا میں خَرْچ کرنے کا بکثرت جگہوں پر اصل مُدَّعا ہی