صفحہ465 (۲) تفسیرِ رُوحُ الْمَعانی جلد 28 صفحہ481(۳)تفسیرِبیضاوی جلد 5صفحہ 356(۴)تفسیرابی سُعُود جلد 5 صفحہ 738 ۔
یاخدا بہرِ جنابِ مصطفٰے امداد کن
یارسول اللہ از بہرِ خدا امداد کن(حدائق بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’اِیّاکَ نَستَعین‘‘ کی بہترین تشریح
سُوال(4): سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃمیں ہے: اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُ یعنیہم تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔‘‘ لہٰذا کسی اور سے مدد مانگناشرک ہُوا؟
جواب:مذکورہ آیتِ کریمہ میں مدد سے مُراد حقیقی مدد ہے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کوحقیقی کارساز سمجھ کرعرض کیا جارہاہے:اے ربِّ کریم!’’ ہم تجھی سے مدد مانگتے ہیں ‘‘ رہا بندوں سے مدد مانگنا تو وہ مَحْض واسِطۂ فیضِ الٰہی سمجھ کر ہے۔ جیساکہ پارہ12 سُوْرَۂ یُوْسُف آیت نمبر40 میں ہے : اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ ؕ(ترجَمۂ کنزالایمان:حکم نہیں مگراللہکا) یاپارہ 3 سُوْرَۃُ الْبَقَرَہ آیت نمبر255 میں فرمایا: لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ ؕ(ترجَمۂ کنزالایمان: اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ) پھر ہم حکام کو حکم (حَ۔کَمْ یعنی فیصلہ کرنے والا)بھی مانتے ہیں اور اپنی چیزوں پرملکیت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں یعنی آیت سے مرادہے حقیقی حَکَم(یعنی فیصلہ کرنے والا) اور حقیقی مِلکیّت ، مگر بندوں کے لئے بہ عطائے الٰہی۔(جاء الحق ص۲۱۵)