نہیں آتا تو آخِر ’’ مولیٰ علی‘‘ کہنے میں کیوں وسوسہ آ رہا ہے !اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط پڑھ کر شیطان کو بھگا دیجئے اور تسلّی رکھئے کہ ’’ مولیٰ علی‘‘ کہنے میں کوئی حَرج نہیں بلکہ حضرتِ سیِّدُنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ’’مولیٰ‘‘ ہونے کی تو حدیثِ پاک میں صَراحت موجود ہے چُنانچِہ سُنئے اور ’’ حُبِّ علی‘‘ میں سردُھنئے:
جس کا میں مولٰی ہوں اس کے علی بھی مولٰی ہیں
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاارشاد ہے: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ یعنی جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اُس کے مولیٰ ہیں۔(تِرمِذی ج۵ص۳۹۸حدیث۳۷۳۳)
’’مولٰی علی ‘‘کے معنی
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیث پاک کے الفاظ ’’جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اُس کے مولیٰ ہیں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : مولیٰ کے بَہُت (سے)معنٰی ہیں : دوست، مددگار، آزاد شُدہ غلام،(غلام کو) آزاد کرنے والا مولیٰ۔اِس (حدیثِ پاک میں مولیٰ) کے معنٰی خلیفہ یا بادشاہ نہیں یہاں (مولیٰ) بمعنی دوست(اور) محبوب ہے یا بمعنی مددگار اورواقِعی حضرتِ سیِّدُناعلیُّ الْمُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم مسلمانوں کے دوست بھی ہیں ، مددگار بھی، اِس لئے آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ’’مولیٰ علی‘‘ کہتے ہیں۔(مراٰۃ المناجیح ج۸ص۴۲۵)قراٰنِ کریم میں اللہ تَعَالٰی،