ہجرت کر کے جوصَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مدینۃُ المنوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً پہنچے ، وہاں اُن کی نُصرت (یعنی مدد) کرنے والے صَحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ’’اَنصار‘‘ کہلائے اور انصار کے معنیٰ مدد گار ہیں۔ اِس کے علاوہ بھی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں تو جب پولیس مُشکلِکشا ،سماجی کارکُن حاجت روا، چوکیدار مددگار اور قاضی فریاد رس ہو سکتا ہے ، تو اَللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے حضرتِ مولیٰ علی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کیوں مُشکلکُشا نہیں ہو سکتے!
کہہ دے کوئی گھیرا ہے بلاؤں نے حسن ؔ کو
اے شیر خدا بہر مدد تیغ بکف جا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
’’مولیٰ علی ‘‘ کہنا کیسا؟
سُوال(2): مولانا !مُعاف کیجئے، ابھی آپ نے ’’ مولیٰ علی‘‘ کہا ، حالانکہ’’ مولیٰ‘‘ تو صِرْف اَللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی ذات ہے۔
جواب: بے شک حقیقی معنوں میں اَللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ’’ مولیٰ‘‘ ہے مگر مَجازًا (یعنی غیر حقیقی) معنوں میں دوسرے کو’’ مولیٰ‘‘ کہنے میں کوئی مضایَقہ نہیں۔آج کل عُلمائے کرام بلکہ عُموماً ہرداڑھی والے کو مولانا کہہ کر مخاطب کیا جاتاہے، کبھی آپ نے ’’مولانا ‘‘کے معنیٰ پر بھی غور فرمایا؟اگر نہیں تو سُن لیجئے ، مولانا کے معنٰی ہیں : ’’ ہمارا مولیٰ‘‘ دیکھئے !سُوال میں بھی تو ’’مولانا‘‘ کہا گیا ہے! جب عام شخص کو بھی مولانایعنی ’’ ہمارا مولیٰ‘‘ کہنے میں کوئی وَسوَسہ