غیر اللہ سے مدد مانگنے
کے بارے میں سوال جواب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بعض لوگ اَللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا دوسرے سے مدد مانگنے کے تعلُّق سے وَسوسوں کا شکار رہتے ہیں اُن کو سمجھانے کی کوشش کا ثواب کمانے کی اچّھی اچّھی نیّتوں سے چند سوال جواب پیش کئے جاتے ہیں ، اگر ایک بار پڑھنے سے تسلّی نہ ہو تو تین بار پڑھ لیجئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اِنْشِراحِ صَدْر ہو گایعنی سینہ کُھل جائے گا، بات دل میں اُتر جائیگی ، وَسوَسے دُور ہوں گے اوراطمینانِ قلب نصیب ہو گا۔
حضرت علی کو مُشکلکُشا کہنا کیسا ہے؟
سُوال(1) :حضرت علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو مشکلکشا کہنا کیسا ہے؟ کیا صِرْف اَللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہی مُشکلکُشا نہیں ؟
جواب:مُشکِلکُشا کے معنی ہیں :’’ مُشکِل حل کرنے والا، مشکل میں مدد کرنے والا۔‘‘ بے شک حقیقی معنوں میںاَللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہی مُشکِلکُشا ہے، مگر اُس کی عطا سے انبیا ئ، صَحابہ اور اولیا بلکہ عام بندے بھی مُشکلِکُشا اور مدد گار ہو سکتے ہیں اِس کی عام فَہم مثال یہ ہے کہ پاکستان میں جا بجا یہ بَورڈ لگے ہوئے ہیں ’’مدد گار پولیس فون نمبر15‘‘ ہر ایک یہ جانتا ہے کہ پولیس چوروں ڈاکوؤں وغیرہ سے بچانے ، دشمنوں کے خطروں اور دیگر مشکل موقعوں پر مشکلکشائی یعنی مدد کرنے کی صلاحِیَّت رکھتی ہے۔ مکّۃُ المکرَّمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً سے