کیونکہ اگر تم میں سے کوئی اُحُد (پہاڑ) بھر سونا خیرات کرے تب بھی اُن کے نہ ایک مُد کو پہنچے نہ آدھے کو ۔ ‘‘
(بخاری ج۲ص۵۲۲حدیث۳۶۷۳)
جتنے تارے ہیں اُس چرخِ ذی جاہ کے جس قدَر ماہ پارے ہیں اُس ماہ کے
جانشیں ہیں جو مردِ حق آگاہ کے اور جتنے ہیں شہزادے اُس شاہ کے
اُن سب اہلِ مکانَت پہ لاکھوں سلام
مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّتحضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اِس حدیث مبارَکہ کے تحت فرماتے ہیں : 4 مُد کا ایک صاع ہوتا ہے اور ایک صاع ساڑھے چارسیر کا، تو مُدایک سیر آدھ پاؤ ہوا، یعنی میرا صَحابی قریباً سوا سیر جَو خیرات کرے اور اُن کے علاوہ کوئی مسلمان خواہ غوث و قطب ہو یا عام مسلمان پہاڑ بھر سونا خیرات کرے تو اُس کا سونا قربِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ اور قبولِیَّت میں صحابی کے سوا سیرجو کو نہیں پہنچ سکتا، یہ ہی حال روزہ نماز اور ساری عبادات کا ہے، جب مسجِدُالنَّبَوِی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی نماز دوسری جگہ کی نمازوں سے 50ہزارگُنا ہے تو جنہوں نے حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قُرب اور دیدار پایا اُن کا کیا پوچھنا اور اُن کی عبادات کا کیا کہنا! اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ حَضْراتِ صَحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا ذِکر ہمیشہ خیر سے ہی کرنا چاہیے، کسی صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہلکے لفظ سے یاد نہ کرو، یہ حَضْرات وہ ہیں جنہیں ربّ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صُحْبَت کے لیے چُنا، مہربان باپ اپنے بیٹے کو بُروں کی صُحبت میں نہیں رہنے دیتا تو مہربان ربّ عَزَّوَجَلَّ اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بُروں کی صُحبت