Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
51 - 96
شَہوت کی پَیروی کا درد ناک انجام
      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے!مولیٰ علی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے قاتِل کا جو کہ خارِجی بددین و گمراہ تھا کیسا دَرْدْ ناک اَنجام ہوا! وہ بدنصیب کیوں  اِتنا بڑا گناہ کرنے کیلئے آمادہ ہواجیسا کہ پہلے بَیان ہوچکا ہے کہ وہ ایک خارِجِیّہ عورت پر عاشِق ہو گیا تھا اُس خارِجیّہ نے شادی کامَہر یہ مقرَّر کیا تھاکہ تمہیں  حضرتِ علیُّ المرتضیٰ(کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) کو شہید کرنا پڑے گا۔ افسوس! عشقِ مجازی میں  اِبْنِ مُلْجَماندھا ہو گیا اور اُس نے حضرتِ مولیٰ مُشکلکُشا ، علیُّ المُرتَضٰی، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم جیسی عظیم ہستی کو شہید کر دیا، اِس نابَکار کو وہ عورت تو خاک ملنی تھی ہاتھوں  ہاتھ یہ سزا ملی کہ لوگوں  نے دیکھتے ہی دیکھتے اُسے پکڑ لیا، بِالآخِر اُس کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ٹوکرے میں  ڈال کر آگ لگادی گئی اور وہ جل کر خاکِسْتَر ہو گیا! اور مرنے کے بعد تا قِیامت جاری رہنے والے اُس کے لرزَہ خیزعذاب کا ابھی آپ نے تذکِرہ سنا۔ وہ بدبخت ، نہ اِدھر کا رہا نہ اُدھر کا۔ حضرت سیِّدُنا ابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بالکل سچ فرمایا ہے کہ’’شَہوَت کی گھڑی بھر پَیروی طویل غم کا باعِث ہوتی ہے۔‘‘	(اَلزّھدُ الکبیر لِلْبَیْہَقِی ص۱۵۷حدیث۳۴۴)  
صَحابۂ کِرام کی شان
	صحابی ٔرسولِ ہاشِمی حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایَت ہے ، نبیِّ کریم، رء ُوْفٌ رَّحیم عَلَيْهِ اَفْضَلُ الصَّلٰوةِ وَالتَّسْلِيْم کا فرمانِ عظیم ہے:’’میرے صَحابہ کو بُرا نہ کہو