دیو ہیکل پرندے نے اُس کے ٹھونگ ماری اور اُس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، پھر نگل گیا۔ کئی روز تک میں یہ خوفناک منظر دیکھتا رہا، میرا یقین خدا عَزَّوَجَلَّ کی قدرت پر بڑھ گیا کہ واقِعی اللہ عَزَّوَجَلَّ مار کر جِلانے پر قادِرہے۔ ایک دن میں اُس دیو ہیکل پر ندے کی طرف مُتَوَجِّہہوا اور اُس سے دریافت کیا کہ اے پرندے! میں تجھے اُس ذات کی قسم دے کر کہتا ہوں جس نے تجھ کو پیدا کیا! اب کی بار جب وہ انسان مکمَّل ہو جائے تو اُس کو باقی رہنے دینا تاکہ میں اُس سے اُس کا عَمَل معلوم کر سکوں ! تو اُس پرندے نے فَصِیح عَرَبی میں کہا: ’’میرے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہی بادشاہت اوربَقا ہے ہر چیز فانی ہے اور وُہی باقی ہے میں اُس کا ایک فِرِشتہ ہوں اور اِس شخص پر مُسلَّط کیا گیا ہوں تا کہ اِس کے گناہ کی سزا دیتا رہوں۔‘‘ جب قے میں وہ انسان نکلا تو میں نے اُس سے پوچھا: اے اپنے نفس پر ظلم کرنے والے انسان! تو کون ہے اور تیرا قصّہ کیاہے ؟ اُس نے جواب دیا: ’’میں ( حضرتِ) علیُّ(کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم)کا قاتل عبدالرحمن اِبْنِ مُلْجَمہوں، جب میں مر چکا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سامنے میری روح حاضِر ہوئی، اُس نے میرا نامۂ اَعمال مجھ کو دیا جس میں میری پیدائش سے لے کر حضرتِ علی(کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) کو شہید کرنے تک کی ہر نیکی اور بدی لکھی ہوئی تھی ۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اِس فرِشتے کو حکم دیا کہ وہ قِیامت تک مجھے عذاب دے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چُپ ہو گیا اور دیو ہیکل پرندے نے اس پرٹھونگیں ماریں اور اس کو نگل گیا اور چلا گیا۔(شَرْحُ الصُّدُور ص۱۷۵)