Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
49 - 96
اِبْنِ مُلْجَم کی لاش کے ٹکڑے نَذْرِ آتش کر دیئے گئے
         حضرتِ سیِّدُنااِمام حسن،سیِّدُنا امام حسین اورسیِّدُناعبدُاللہبن جعفَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو غُسْل دیا، حضرتِ سیِّدُنااِمام حسن مُجتبَیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے  نمازِ جنازہ پڑھائی اوردارُالاِْمارت کوفہ میں  رات کے وقت دَفْن کیا۔ لوگوں  نے اِبْنِ مُلْجَم بَدکِردار وبَداَطوار کے جسْم کے ٹکڑے کرکے ایک ٹوکرے میں  رکھ کر آگ لگا دی اور وہ جل کر خاکِستر ہو گیا۔(ایضاً)
بعدِ موت قاتِلِ علی  کی سزا کی لرزہ خیز حکایت
	دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مَطْبُوعہ کتاب ’’فیضانِ سنّت‘‘ جلد دُوُم کے 505 صفْحات پر مشتمل باب’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ صَفْحَہ199 پر ہے:  عِصْمَہ عَبَّادَانِیکہتے ہیں : میں  کسی جنگل میں گھوم رہا تھا کہ میں  نے ایک گِرجا دیکھا،گِرجا میں  ایک راہِب کی خانقاہ تھی اُس کے اندر موجود راہِب سے میں  نے کہا کہ تم نے اِس (ویران)مقام پرجو سب سے عجیب وغریب چیز دیکھی ہو وہ مجھے بتاؤ! تواُ س نے بتایا: میں  نے ایک روز یہاں  شُتَر مُرغ جیسا ایک دیو ہیکل سفید پرندہ دیکھا، اُس نے اُس پتّھر پر بیٹھ کرقَے کی، اُس میں  سے ایک انسانی سر نکل پڑا ،وہ برابر قے کر تا رہا اور انسانی اَعضا ء نکلتے رہے اور بجلی کی سی سُرعَت( یعنی پُھرتی) کے ساتھ ایک دوسرے سے جُڑتے رہے یہاں  تک کہ وہ مکمَّل آدَمی بن گیا! اُس آدَمی نے جوں  ہی اُٹھنے کی کوشش کی اُس