گئی، یہ وُہی رات ہے جس کا وَعدَہ کیا گیا ہے۔ (گویا آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اپنی شہادت کا پہلے ہی سے علْم تھا) (سوانِحِ کربلا ص۷۶،۷۷ملخصاً)
قاتِلانہ حملہ
شبِ جُمُعہ17(یا19)رَمَضانُ المبارَک 40ھ کوحَسَنَیْنِ کرِیْمَیْن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے والد بُزُرگوار، حیدرِکرَّار،صاحب ِذُوالفِقار اَمیرُالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسَحَر(یعنی صبح) کے وقت بیدار ہوئے، مؤذِّن نے آکر آواز دی اور کہا:اَلصَّلٰوۃ اَلصَّلٰوۃ!چُنانچِہ آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نَماز پڑھنے کے لئے گھر سے چلے، راستے میں لوگوں کو نَماز کے لئے صدائیں دیتے اور جگاتے ہوئے مسجد کی طرف تشریف لے جا رہے تھے کہ اچانک اِبْنِ مُلْجَم خارِجی بدبَخْت نے آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر تلوار کا ایک ایسا ظالمانہ وار کیاکہ جس کی شدّت سے آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی اور تلوار دماغ پر جا کر ٹھہری۔ اتنے میں چاروں طرف سے لوگ دوڑ کر آئے اور اُس خارِجی بدبَخت کو پکڑ لیا۔ اِس اَلَم ناک واقِعہ کے 2دن بعد آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم جامِ شہادت نوش فرما گئے۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۳۹) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری بے حساب مغفِرَت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد