Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
47 - 96
کے قتْل کا مُعاہَدہ کیا اور امیرُالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے قتْل کے لئے اِبْنِ مُلْجَم آمادَہ ہوا اور ایک تاریخ مُعیَّن (یعنی طے )کرلی گئی۔
 اِبْنِ مُلْجَم کی بدبختی کا سبب عشق مجازی ہوا	
	 ’’مُسْتَدْرَک‘‘ میں  ہے کہ اِبنِ مُلْجَم ایک خارِجِیّہ عورت کے عشقِ مجازی، میں  گرفتار ہو گیا تھا، اُس ظالِمہ خارِ جِیّہ عورت نے شادی کے لئے مَہر میں  3 ہزار دِرہَم اورنَعُوْذُ بِاللہ حضرتِ مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے قَتْل کا مطالَبہ رکھا تھا۔ (مُستَدرَک ج۴ص۱۲۱حدیث۴۷۴۴)اِبْنِ مُلْجَم کوفہ پہنچا اوروہاں  کے خَوارِج سے ملا اور اُنہیں  درپردہ اپنے ناپاک اِرادے کی اِطّلاع دی تو وہ بھی اُس کے ساتھمُتَّفِق ہو گئے۔
شہادت کی رات
	 اِس ماہِ رَمَضانُ المبارَک (40ھ)میں  آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کایہ دستُور تھا کہ ایک شب حضرتِ سیِّدُنا امامِ عالی مقام امامِ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، ایک شب حضرتِ سیِّدُنااِمام حسن مُجتبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور ایک شب حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ بن جعفَر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس اِفطار فرماتے اور تین لقموں  سے زیادہ تناوُل نہ فرماتے اور(کم کھانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے) اِرشاد فرماتے: مجھے یہ اچّھا معلوم ہوتاہے کہ’’اللہ تَعَالٰی سے ملتے وقت میرا پیٹ خالی ہو۔‘‘ شہادت کی رات تو یہ حالت رہی کہ باربار مکان سے باہَر تشریف لاتے اور آسمان کی طرف دیکھ کر فرماتے: بخداعَزَّوَجَلَّ! مجھے کوئی خبر جھوٹی نہیں  دی