قراٰنِ کریم میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے امیرُالْمُؤمِنِین،مولائے کائنات، حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے گھرانے کے اِس اِیمان اَفروز ایثا ر کواِس طرح بَیان فرمایا ہے: وَ یُطْعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾ اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا ﴿۹﴾ (پ۲۹،الدھر:۸۔۹)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور کھانا کھلاتے ہیں اُس کی مَحَبَّت پر مسکین اور یتیم اور اَسیر (یعنی قیدی) کو، ان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتے ہیں ،تم سے کوئی بدلہ یاشکر گُزاری نہیں مانگتے۔
تمہاری داڑھی خون سے سُرخ کر دے گا
حضرتِ سیِّدُنا عمّار بن یاسِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : میں اورحضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی، شیرِخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم’’غَزْوَۂ ذِی العُشَیْرَہ‘‘ میں تھے کہ نبیِّ آخِرُ الزّمان، رسولِ غیب دان، سُلطانِ دوجہان،رَحمتِ عالَمیان، سرورِ ذِیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشادفرمایا:کیا میں تم کواُن دوشخصوں کے بارے میں خبر نہ دوں جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ بدبخت ہیں ؟ ہم نے عرْض کی: ’’کیوں نہیں ، یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!‘‘ پس رسولِ ذی وقار، غیبوں پر خبردار باذنِ پروَرْدْگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱ اِس غَزوَہ کی سِنّ 2 ہجری میں محض تیاری ہوئی تھی، کفّار سے جِہاد کی نوبت نہیں آئی تھی۔(المواہب اللدنیۃ ج ۱ ص ۱۷۴)