شیرِ خدا کا عشقِ مصطَفٰے
حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے کسی نے سُوال کیا کہ آپ کو رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کتنی مَحَبَّت ہے؟ فرمایا: خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم!حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے نزدیک اپنے مال وآل ،والدین اورسخت پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے بھی بڑھ کر محبوب( یعنی پیارے) ہیں۔(الشفاء ج۲ص۲۲)
شیرِ خدا کی خُدا داد خوبیاں
حضرتِ سیِّدُنا ابی صالِح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے ، ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا امیرِمُعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرتِ سیِّدُنا ضِرَار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمایا: ’’ میرے سامنے حضرتِ سیِّدُنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اَوصاف(یعنی خوبیاں ) بیان کیجئے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ضِرار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی: امیرُالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے عِلم وعِرفان کا اندازہ نہیں لگا یا جا سکتا ، آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مُعامَلے اور اُس کے دین کی حمایت میں مضبوط اِرادے رکھتے ، فیصلہ کُن بات کرتے اور انتہائی عَدل و اِنصاف سے کام لیتے ، آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی ذات مَنبعِ عِلم وحکمت تھی ، جب کلام (یعنی گفتگو) کرتے تو دَہَنِ مبارَک سے حکمت ودانائی کے پھول جَھڑتے ، دنیا اور اس کی رنگینیوں سے وَحْشت کھاتے ، رات کے اندھیرے میں (عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے) مَسرور(خوش) ہوتے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بَہُت زیادہ رونے والے ، دُور اندیش اور غمزدہ تھے ، اپنے نفس کا