Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
40 - 96
مُحاسَبہ کرتے ، کُھرْدَرا اور موٹا لباس پسند فرماتے اور موٹی روٹی کھاتے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! رُعْب ودبدبہ ایسا تھا کہ ہم میں  سے ہرایک آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے کلام (یعنی بات) کرتے ہو ئے ڈرتا تھا ،حالانکہ جب ہم حاضِر ہوتے تو ملنے میں  آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  خود پہل کرتے اور جب ہم سُوال کرتے تو جواب ارشاد فرماتے، اور ہماری دعوت قَبول فرماتے ۔ جب   مسکراتے تو دندانِ مبارَک ایسے معلوم ہوتے جیسے موتیوں  کی لَڑی، آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم پرہیزگاروں  کااحتِرام کرتے ، مِسکینوں  سے مَحَبَّت فرماتے،  کسی طا قتوریا صاحِبِ ثَروَت (یعنی سرمایہ دار)کو اُس کی باطِل(یعنی بے کار) آرزو میں  اُمّید نہ دلاتے ، کو ئی بھی کمزور شخص آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی عدالت سے مایوس نہ ہوتا بلکہ اُسے اُمّید ہوتی کہ مجھے یہا ں  انصاف ضَرور ملے گا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں نے دیکھا کہ جب رات آتی تو آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اپنی داڑھی مبارک پکڑ کر زارو قِطا ر روتے اور زخمی شخص کی طر ح تڑپتے ۔میں  نے آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ اے دنیا !آیا تُو نے مجھ سے منہ موڑلیا ہے یا ابھی تک میری مُشتاق (یعنی میرا شوق رکھتی )ہے ؟ اے دھوکے باز دنیا! جا، تو کسی او ر کو دھوکا دے ،میں  تجھے تین طَلَاقیں  دے چکاہوں  اب اِس میں  ہرگزرُجوع نہیں  ، تیری عمر بَہُت کم اور تیری آسائشیں  اور نعمتیں  انتہائی حقیر ہیں اور تیرے نقصانا ت بَہُت زیادہ ہیں  ، ہائے !سفرِ (آخرت) نہایت طویل ہے ،زادِ راہ بَہُت قلیل (یعنی تھوڑا سا)اور راستہ انتہائی خطرناک اور پیچ دار ہے ۔‘‘یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا امیر مُعاوِیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی آنکھوں  سے آنسو بہنے لگے حتّٰی کہ رِیش(یعنی داڑھی)مبارَک