Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
38 - 96
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے (مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں  مُہاجِرین اور انصار)صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے درمِیان بھائی چارا قائم فرمایا، تو حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی،شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس حالت میں  حاضِر ہوئے کہ آنکھوں  سے آنسو بہ رہے تھے، عرض کی : ’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ نے صَحابۂ کرام کے درمیان بھائی چارا قائم فرمایا، لیکن مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا؟‘‘ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا،’’اَنْتَ اَخِیْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِیعنی تم دنیا و آخِرت میں  میرے بھائی ہو ۔‘‘  
(تِرمِذی ج۵ ص۴۰۱ حدیث۳۷۴۱)
شرحِ حدیث
      مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی تم رشتے میں  بھی میرے چچا زاد بھائی ہو اور اب اِس عَقْدِ مُؤاخات (م ُ ۔آ۔خات یعنی بھائی چارے کے قول و قرار)میں  بھی تم کو اپنا بھائی بنایا اور دنیا و آخِرت میں  اپنا بھائی بنایا۔سُبْحٰنَ اللہ(عَزَّوَجَلَّ)! مگر خیال رہے کہ اس کے باوُجُود کبھی حضرتِ سیِّدُنا علی(کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) نے حُضُور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کو بھائی کہہ کر نہ پکارا (جب کبھی پکارا)تو ’’یَا رَسُوْلَ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)‘‘کہہ کر (ہی پکارا)،پھر کسی اَیرے غَیرے کو بھائی کہنے کا حق کیسے ہوسکتا ہے!	             (مراٰۃ المناجیح ج ۸ ص۴۱۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد