دے حُسنِ اَخلاق کی دولت کر دے عطا اِخلاص کی نعمت
مجھ کو خزانہ دے تقویٰ کا
یا اللہ! مِری جھولی بھر دے(وسائلِ بخشش ص ۱۰۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تم مجھ سے ہو
نبیوں کے سلطان ، رحمتِ عالمیان ، سردارِ دو جہان، محبوبِ رحمنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاحضرتِ مولیٰ علی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بارے میں فرمانِ فضیلت نشان ہے:’’اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْکَیعنی تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں ۔‘‘
(تِرمِذی ج۵ ص۳۹۹ حدیث۳۷۳۶)
اے طَلعَتِ شہ! آ، تجھے مولیٰ کی قسم! آ
اے ظُلمتِ دل! جا، تجھے اُس رُخ کا حَلَف جا(ذَوقِ نعت)
یعنی اے مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے رُخِ زیبا کی روشنی! تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم دیتا ہوں کہ مجھ پر اپنی تجلّی ڈال!اور اے میرے دل کی تاریکی! تجھے مولیٰ مشکلکُشا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے چہرۂ اَنور کی قسم! مجھ سے دُور ہوجا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تم میرے بھائی ہو
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ