مولیٰ مشکل کُشاحضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی ،شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اِخلاص کی بَرَکت سے یہودی کو اسلام جیسی عظیم ُ الشّان نعمت نصیب ہوگئی،اِسی طرح ہمارے دیگر اَسْلاف کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام بھی ہَمَہ وقْت اپنے نیک اعمال کو جانچتے رہتے کہ یہ عَمَل کہیں دوسروں کو دِکھانے کے لئے تو نہیں ! اگر کسی نیک عَمَل میں نفس و شیطان کی مُداخَلَت یا ریاکاری کا تھوڑا سا بھی شائبہ محسوس فرماتے تو فوراً اُس سے بچنے بلکہ بسا اَوقات تو اُس عَمَلِ صالح کو دوبارہ کرنے کی ترکیب بناتے چُنانچِہ
30سال کی نَمازیں دُ ہرائیں
ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ 30سال تک مسجِد کی پہلی صَف میں ( با جماعت) نماز ادا فرماتے رہے ، ایک باران کو پہلی صَف میں جگہ نہ ملی اور دوسری صَف میں کھڑے ہوگئے تو شَرْم محسوس ہونے لگی کہ لوگ کیا کہیں گے کہ دیکھو! آج اِس آدَمی کی پہلی صَف چھوٹ گئی ہے۔ یہ خیال آتے ہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سنبھل گئے اوراپنے نفس کا مُحاسَبَہ کرنے لگے کہ’’اے نفس! میں 30سال تک جو نَمازیں پہلی صَف میں ادا کرتا رہا کیا وہ لوگوں کو دکھانے کے لئے تھیں جو آج تجھے شَرْم آرہی ہے!‘‘ چُنانچِہ اُنہوں نے پچھلے 30سال کی نَمازیں دُہرائیں اور کمالِ صدْق واِخلاص کی نادِر مثال قائم فرمائی۔(اِحیاءُ العلوم ج۲ص۳۰۲) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم