دُعا بھی دی :’’اَللّٰہُمَّ اَذْہِبْ عَنْہُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ۔یعنی اے االلہ! علی سے گرمی اور سردی دُورفرما دے۔‘‘ اُس دن سے مجھے نہ گرمی لگتی ہے اور نہ ہی سردی۔(اِبن ماجہ ج ۱ ص ۸۳ حدیث ۱۱۷)
اِجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا
دُلہن بن کے نکلی دعائے محمد(حدائق بخشش شریف)
مولٰی علی کا اِخلاص
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مولائے کائنات ، مولیٰ مشکلکشا،علیُّ المُرتَضٰی، شیرِخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اِس قدر بہادُر ہونے کے باوُجُود تکبُّر، ریا کاری اور خودنُمائی وغیرہ ہر طرح کے رَذائل سے پاک اورپیکرِعَمَل واِخلاص تھے جیسا کہ حضرت عَلَّامہعلی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’حضرتِ سیِّدُنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے جہاد میں ایک کافر کو پَچھاڑا اور اُسے قتل کے اِرادے سے اُس کے سینے پر بیٹھے، اُس نے آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر تھوک دیا ، آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اُسے چھوڑ دیا، سینے سے اُٹھ گئے۔ اُس نے وجہ پوچھی تو آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ تیری اِس حَرَکت سے مجھے غصّہ آگیا، اب تیرا قتْل نفسانی وجہ سے ہوتا نہ کہ اِیمانی وجہ سے، اِس لیے میں نے تجھے چھوڑ دیا، وہ آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا یہ اِخلاص دیکھ کر مسلمان ہوگیا۔ ‘‘
(مِرقاۃُ المَفاتیح ج۷ ص۱۲تَحتَ الحدیث۳۴۵۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے کہ حیدرِ کَرّار وصاحِبِ ذُوالفِقار امیرُ المؤمنین،