Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
34 - 96
علیجیسا کوئی بہادُر نہیں 
     امیرُ الْمُؤْمِنِین  حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا ایک نُمایاں  ترین وَصْف(یعنی خوبی) شُجاعت وبہادُری ہے اور اس بہادری کو غیبی تائید بھی حاصل ہے جیسا کہ ایک رِوایت میں  ہے: جب امیرُ الْمُؤْمِنِین، حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المُرتَضٰی ، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ایکغزوہ میں کُفّارِ بد ا َطوار کو گاجر مُولِی کی طرح کاٹ رہے تھے تو غیب سے یہ آوازآئی: ’’لَا سَیْفَ اِلَّا ذُوالْفِقَارِ وَلَا فَتٰی اِلَّا عَلِیٌّیعنی علی جیسا کوئی بہادُر نہیں اور ذوالفقار جیسی کوئی تلوار نہیں۔‘‘	 (جزء الحسن بن عرفۃ العبدی ص ۶۲ حدیث ۳۸ ماخوذاً)
ہیں  علی مُشکِل کُشا سایہ کُناں  سر پرمِرے
لَا فَتٰی اِلَّاعَلِی، لَا سَیْفَ اِلاَّ ذُوالْفِقَار(وسائلِ بخشش ص ۴۰۰)
لُعاب و دعائے مصطَفٰے کی بَرَکتیں 
	حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المُرتَضٰی ، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  کہ سلطانِ زَمان و زَمَن ، محبوبِ ربِّ ذُوالمنَنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا لُعابِ دَہَن لگنے کے بعد میری دونوں آنکھیں  کبھی نہ دُکھیں۔ (مسندامام احمدبن حنبل ج۱ص۱۶۹حدیث۵۷۹)  حضرت مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم گرمیوں  میں  گرم کپڑے اور سردیوں  میں ٹھنڈے کپڑے پہنتے تھے، کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جب جنابِ رسالت مآبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میری آنکھوں  میں  اپنے منہ مبارَک سے لُعاب لگایا تو ساتھ میں  یہ