تمہارے پاس سُرخ اُونٹ ہوں۔(بخاری ج۲ص۳۱۲حدیث۳۰۰۹، مُسلِم ص۱۳۱۱ حدیث ۲۴۰۶)
قوَّتِ حیدری کی ایک جھلک
غزوۂ خیبر میں ایک یہودی نے حضرتِ حیدرِ کَرّارکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر وار کیا، اِسی دَوران آپکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی ڈھال گر گئی، توآپکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم آگے بڑھ کر قَلعے کے دروازے تک پَہُنچ گئے اور اپنے ہاتھوں سے قَلعے کا پھاٹک اُکھاڑ دیا اور کواڑ کو ڈھال بنالیا، وہ کِواڑ آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ہاتھ میں برابر رہا اور آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ہاتھوں خیبر کو فتح فرمایا۔یہ کواڑ اتنا وزنی تھا کہ جنگ کے بعد 40 آدمیوں نے مل کر اُٹھانا چاہا تو وہ کامیاب نہ ہوئے۔ (دَلَائِلُ النُّبُوَّۃِ لِلْبَیْہَقِی ج۴ ص۲۱۲)
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
شیرِ شمشِیر زَن شاہِ خیبر شِکَن
پَر تَوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام(حدائقِ بخشش شریف)
کسی اورنے بھی کیا خوب کہا ہے: ؎
علی حیدر! تری شوکت تری صَولت کا کیا کہنا
کہ خطبہ پڑھ رہا ہے آج تک خیبر کا ہر ذرّہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد