Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
32 - 96
رسولِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عَکّاسی کرتی ہوئی ایک ایمان افروز حکایت مُلاحَظہ فرمائیے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا سَھْل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : نبیِّ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خیبر کے دن فرمایا:’’ کل یہ جھنڈامیں  ایسے شخص کو دو ں  گاجس کے ہاتھ اللہ تَعَالٰی فتح دے گا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے رسول(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)سے مَحَبّت کرتا ہے نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اس سے مَحَبّت کرتے ہیں۔‘‘اگلے روز صُبْح کے وقت ہر آدَمی یہی اُمّید رکھتا تھا کہ جھنڈا اُسی کو دیا جائے گا۔فرمایا:علی بن ابی طالب کہاں  ہیں  ؟لوگوں  نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!اُن کی آنکھیں  دُکھتی ہیں  ۔فرمایا : انہیں  بلاؤ ،انہیں  لایا گیا تومحبوبِ ربُّ العِباد، راحتِ ہر قلبِ ناشاد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُن کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی آنکھوں  پر اپنا لُعابِ دَہَن (یعنی تھوک شریف) لگایا اور دُعا فرمائی وہ ایسے اچّھے ہوگئے گویا انہیں  درد تھا ہی نہیں اور اُنہیں  جھنڈا دے دیا۔امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا  علیُّ المُرتَضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! کیا میں  ان لوگوں  سے اس وَقت تک لڑوں  جب تک وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہوجائیں  ؟ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:نرمی اختیار کرو یہاں  تک کہ اُن کے میدان میں  اُتر جاؤ پھر انہیں  اسلام کی دعوت دو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے جو حُقوق اُن پر لازم ہیں  وہ اُنہیں  بتاؤ۔خدا کی قسم اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارے ذَرِیعے کسی ایک شخص کوہدایت عطا فرمائے تو یہ تمہارے لئے اس سے اچّھاہے کہ