Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
30 - 96
قبر میں  میِّت اُترنی ہے ضَرور	جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے ضَرور
ایک دن مرنا ہے آخِر موت ہے		 کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
عبرت کے مَدَنی پھول
      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حکایت سے حضرت ِ سیِّدُنا مولیٰ مُشکل کُشا، علیُّ المُرتَضٰی،  شیرِخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی رِفعت وعظَمت اور قوَّتِ سماعت کی ایک جھلک دیکھنے میں  آئی کہ آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے مُردوں  سے اُن کے برزَخی حالات پوچھے، جوابات سنے اور اُنہیں  دُنْیَوِی حالات ارشاد فرمائے، یقینا یہ آپ کی عظیم الشان کرامتہے۔ نیز اِس روایت میں  ہمارے لئے عبرت کے مَدَنی پھول بھی ہیں  کہ جو شخص دُنیا میں  رہتے ہوئے اپنے عقائد واعمال کو نہ سُدھارے گا، دُنیوی خواہِشات کے جال میں  پھنس کر آخِرت سے غافل رہے گا اُس کی قبر اُس کے لئے سختیوں  کا گھر بنے گی اور یہ دنیا کی بے جا فکریں  اور خواہشیں  اس کے کسی کام نہ آئیں  گی بلکہ صِرْف دُنیا کا مال اکٹّھا کرنے کی فکْر میں  لگا رہنے والا اور پھر اِسی حال میں  مرکر اندھیری قبر کی سیڑھی اُتر جانے والا اپنے دُنیوی مال سے کوئی فائدہ نہ اُٹھا پائے گا، لَواحِقین ووُرَثاء اس کے مال پر قبضہ بلکہ حُصُولِ مال کے لئے جھگڑا کرکے اپنی اپنی راہ لیں  گے اور یہ نادان انسان جمعِ مال کی دُھن میں  مَست رہتے ہوئے حلال حرام کی تمیز بھلا بیٹھنے اور گناہوں  بھری زندگی گزارنے کی وجہ سے عذابِ نار کاحقدار قرار پائیگا۔