عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی’’شَرْحُ الصُّدُور‘‘ میں نَقْل کرتے ہیں ، حضر تِ سَیِّدُنا سعید بن مُسیَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرما تے ہیں :ہم امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ علیُّ المُرتَضٰی شیرِخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ہمراہ قبرِستان سے گزرے،آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اِرشاد فرمایا: ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَہْلَ الْقُبُوْرِ وَرَحْمَۃُ اللہ یعنی اے قبر والو!تم پر سلامَتی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت ہو۔‘‘ اور فرمایا: اے قَبْر والو!تم اپنی خبر بتاؤ گے یا ہم تمہیں بتائیں ؟ سَیِّدُناسعید بن مُسیَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ہم نے قَبْر سے ’’وَ عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ کی آواز سنی اور کوئی کہنے والا کہہ رہاتھا: یا امیرَالْمُؤمِنِین!آپ ہی خبر دیجئے کہ ہمارے مرنے کے بعد کیا ہوا؟ حضرتِ مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا :سُن لو! تمہا رے مال تقسیم ہو گئے، تمہاری بیویوں نے دوسر ے نکاح کر لئے، تمہاری اَولاد یتیموں میں شامل ہوگئی ، جس مکان کو تم نے بہت مضبوط بنایا تھا اُس میں تمہارے دشمن آباد ہو گئے۔ اب تم اپنا حال سناؤ۔ یہ سن کر ایک قَبْر سے آواز آنے لگی:یا امیرَالْمُؤمِنِین! ہمارے کفن پَھٹ کرتارتار ہوگئے ، ہمارے بال جھڑ کر مُنْتَشِر ہوگئے، ہماری کھالیں ٹکڑے ٹکڑ ے ہوگئیں ہماری آنکھیں بہ کر رُخساروں پر آ گئیں اور ہما ر ے نَتھنوں سے پِیپ بہ رہی ہے اور ہم نے جو کچھ آگے بھیجا(یعنی جیسے عمل کئے) اُسی کو پایا ، جو کچھ پیچھے چھو ڑا اُس میں نقصان ہوا۔
(شَرْحُ الصُّدُورص۲۰۹،ابن عَساکِرج۲۷ص۳۹۵ )
آخِرت کی فکر کرنی ہے ضَرور زندَگی اِک دن گزرنی ہے ضَرور