Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
26 - 96
کا ہوشرُبا منظر دیکھا اور شدّتِ پیاس سے خود کو بے تاب پایا اور کسی طرح حُضُورِ اکرم    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حوض مبارَک پر پہنچ گیا، وہاں حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صدِّیق ، حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم ، حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی اور حضرت مولیٰ علی شیرِ خدا عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو پایا، یہ حضرات لوگوں  کو پانی پلا رہے تھے۔ میں  حضرت مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خدمت میں  حاضِر ہوا کیوں  کہ مجھے ان پر بڑا ناز تھا، میں  ان سے بَہُت مَحَبَّت کرتا تھا اور تینوں  خُلَفاء سے انہیں  افضل جانتا تھا، مگر یہ کیا ! آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے مجھ سے چہرۂ مبارَک ہی پھیر لیا ! چونکہ پیاس بَہُت زیادہ لگی تھی میں  باری باری اُن تین خُلَفاء کے پاس بھی گیا ، ہر ایک نے مجھ سے اِعراض کیا یعنی اپنا مبارَک منہ پھیر لیا ۔ اتنے میں  میری نظر مدینے کے تاجور ، سلطانِ بحر و بر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر پڑی ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہِ انور میں  حاضِر ہو کر میں  نے عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہِ!مولیٰ علی نے مجھے پانی نہیں  پلایا ،بلکہ اپنا منہ ہی پھیر لیا ۔ ارشاد ہوا : وہ تمہیں  پانی کیسے پلائیں ! تم تو میرے صَحابہ سے بُغْض رکھتے ہو! یہ سن کر مجھے اپنے عقیدے کے غَلَط ہونے کا یقین ہو گیا اور میں  نے بصد ندامت حُضُور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دستِ مبارَک پر سچّی توبہ کی، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے ایک پیالہ عنایت    فرمایا جو میں  نے پی لیا، پھر میری آنکھ کھل گئی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ جب سے دستِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پیالہ پیا ہے ، مجھے بِالکل پیاس نہیں  لگتی ۔ اِس خواب کے بعد