میں نے اپنے اہل و عِیال کو توبہ کی تلقین کی ان میں سے جنہوں نے توبہ کر کے مسلکِ اہلِ سنّت و جماعت قَبول کیا میں نے اُن سے مُراسِم(یعنی تعلُّقا ت)قائم رکھے، باقیوں سے توڑ ڈالے۔
(مُلَخَّص از مِصباحُ الظّلام ص۷۴)
جب دامنِ حضرت سے ہم ہو گئے وابَستہ
دنیا کے سبھی رشتے بیکار نظر آئے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس روایت سے پتا چلتا ہے کہ سچے مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ وہ تمام صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی عظَمت وشان کا دل سے مُعتَرِف ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص بعض صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مَحَبّت اور بعض سے بُغض رکھتاہے تووہ سخت غلطی پر ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں تمام صَحابۂ کِرام واہلِ بیتِ عِظام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے سچی مَحَبّت وعقیدت عنایت فرمائے۔اس پر استِقامت بخشے اوراسی اُلفت و اِرادَت کی حالت میں زیرِ گنبدِ خضرا جلوۂ محبوب میں شہادت ، جنَّتُ البقیع میں مدفن اورجنّت الفِردوس میں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور چار یار کا جوار( یعنی پڑوس ) عنایت فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَحابہ کا گدا ہوں اور اہلِ بیت کا خادم
یہ سب ہے آپ ہی کی تو عنایت یا رسولَ اللہ!